اسلام آباد: وفاقی بجٹ میں حکومت کیش پر خریداری کرنے والوں کے لیے اہم تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کیش پر شاپنگ پر 2 فیصد اضافی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی اور دستاویزی معیشت کی توسیع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا اے ٹی ایم کے ذریعے خریداری پر موجودہ 18 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رہے گا، لیکن کیش پر خریداری کرنے والوں کو 20 فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اسی نوعیت کا اقدام پٹرولیم مصنوعات پر بھی تجویز کیا گیا ہے۔ کیش کے ذریعے پٹرول یا ڈیزل خریدنے والوں کو فی لیٹر 2 روپے اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیکس ریلیف اور نئے اقدامات
بجٹ میں 200 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ تاہم، 600 سے 700 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی بھی تجویز ہے۔
ایف بی آر کو اپنے ٹیکس اقدامات کے ذریعے 1200 ارب روپے کے اضافی محصولات اکٹھے کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر آئندہ مالی سال کے لیے 2 ہزار ارب روپے کے اضافی ٹیکس ہدف کی تجویز دی گئی ہے۔
دیگر بجٹ اقدامات
وفاقی بجٹ کا کل حجم 17 ہزار 800 ارب روپے ہوگا، جو موجودہ بجٹ سے 900 ارب روپے کم ہے۔
سرکاری وزارتوں کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کی جائے گی۔
تمام شعبوں کے لیے بجلی اور گیس کے بل محدود رکھنے کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ضمنی گرانٹس کا سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد تک اضافے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہوگی۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آج شام قومی اسمبلی میں مالیاتی بل 2025-26 اور بجٹ دستاویزات پیش کریں گے۔