اسلام آباد:سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہو چکا ہے، جہاں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کر رہے ہیں۔
اجلاس شام 5 بجے طلب کیا گیا تھا، تاہم تقریباً 30 منٹ کی تاخیر کے بعد کارروائی کا آغاز ہوا۔
اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی۔ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی گئی، جو مہنگائی کے پیش نظر ایک اہم ریلیف اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا، ایوان شور شرابے اور نعرے بازی سے گونج اٹھا۔ سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب قائد ایوان شہباز شریف کی موجودگی میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے بجٹ کے خلاف بھرپور ردعمل دیا۔
اپوزیشن اراکین نے نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ علامتی احتجاج کے طور پر بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر فضا میں اچھال دیں۔ ارکان نے حکومت کے معاشی اقدامات کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے پلے کارڈز بھی لہرائے اور وزرا کے خطابات میں خلل ڈالا۔
ہنگامہ آرائی کے باوجود وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2025-26 پیش کرنے کا عمل جاری رکھا، جبکہ حکومتی بنچوں کی جانب سے اپوزیشن کے شور کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے ایک "تاریخی موقع" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب قوم نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر دنیا کو اپنی سیاسی و عسکری قیادت کی یکجہتی کا پیغام دیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں کہایہ میرے لیے اعزاز ہے کہ میں ایک اہم مرحلے پر ملک کا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔ دشمن کو موثر اور بھرپور جواب دینے پر سیاسی و عسکری قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ آج پاکستان عالمی سطح پر مزید باوقار ہو چکا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ کو "معاشی استحکام اور ترقی" کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح عوامی فلاح و
بہبود ہے۔ ان کے بقول، اصلاحات کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ افراط زر کی شرح کم ہوکر 4.7 فیصد تک آ گئی ہے، جو دو سال قبل 29.2 فیصد تھی۔
ترسیلات زر 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ 37 سے 38 ارب ڈالر تک جائیں گی۔روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کا اشارہ ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسی معیشت کی تشکیل چاہتی ہے جو تمام طبقات کے لیے مساوی مواقع فراہم کرے۔ ان کے مطابق، بجٹ میں کیے گئے اقدامات کا مقصد صرف ترقی نہیں بلکہ شفاف اور جامع نظام قائم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2025-26 پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سخت اور اہم فیصلے کیے، جن کے مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کی ریٹنگ "ٹریپل سی مثبت" سے بہتر کرتے ہوئے "بی منفی" کر دی ہے، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ملک کے دفاع کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ڈیجیٹل اقدامات
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ 55 کھرب روپے لگایا گیا ہے، جسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومتی سطح پر وسیع اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔
ان اصلاحات کے تحت سیمنٹ، کھاد، مشروبات اور ٹیکسٹائل سیکٹرز پر ڈیجیٹل پروڈکشن ٹریکنگ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے۔
سیلز اور انکم ٹیکس کے لیے آرٹیفشل انٹیلیجنس پر مبنی نظام متعارف کروایا جائے گا، تاکہ شفافیت بڑھے اور چوری روکی جا سکے۔چینی کے شعبے سے حاصل شدہ محصولات میں 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔3 لاکھ 90 ہزار نان فائلرز کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 9.8 ارب روپے کے جعلی ری فنڈ کلیمز بلاک کیے گئے۔
سادہ ٹیکس ریٹرن کا نیا نظام
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ یکم جولائی 2025 سے چھوٹے کاروباروں کے لیے نیا اور آسان ٹیکس ریٹرن سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔"800 کالمز پر مشتمل موجودہ ریٹرن فارم کو سادہ بنا دیا گیا ہے، اب صرف 7 بنیادی معلومات درکار ہوں گی۔"
انہوں نے واضح کیا کہ اس نئے ریٹرن فارم کے لیے کسی ماہر یا وکیل کی ضرورت نہیں ہوگی، جس کا مقصد چھوٹے کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران کہا ہے کہ حکومت نے توانائی اور معدنی شعبے میں انقلابی اقدامات کیے، جن کے باعث نہ صرف اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی بلکہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔
انہوں نے قومی اسمبلی کو بتایاایف بی آر نے 78.4 ارب روپے کے محاصل وصول کیے۔صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 31 فیصد سے زائد کمی کی گئی۔آئی پی پیز (نجی بجلی گھروں) سے معاہدوں پر نظرثانی کی گئی، جس سے 3 ہزار ارب روپے سے زائد کی بچت ممکن ہو گی۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں 9 ماہ کے اندر 140 ارب روپے کی کمی لائی گئی، اور اگلے 5 سال میں ان نقصانات کو مکمل ختم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔فیصل آباد، گوجرانوالہ اور اسلام آباد کی 3 ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے پہلے مرحلے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
توانائی خودکفالت کی سمت
وزیر خزانہ نے کہا کہ سستی بجلی کے حصول کے لیے جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے۔سرکاری ملکیت کے تمام غیر مؤثر پاور پلانٹس بند کر دیے گئے ہیں، جس سے ہر سال 7 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ملک میں تیل و گیس کی نئی دریافتیں ہوئی ہیں، اور ای اینڈ پی (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) کمپنیاں آئندہ سالوں میں 5 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پر آمادہ ہیں، جو انرجی سیکیورٹی میں بہتری لائے گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ریکوڈک کا تانبے اور سونے کی کانوں پر مبنی منصوبہ ایک قیمتی قومی اثاثہ ہےکان کنی کی متوقع مدت 37 سال ہے۔منصوبے سے پاکستان کو 75 ارب ڈالرز سے زائد کے کیش فلو حاصل ہوں گے۔ابتدائی تعمیراتی مراحل میں 41,500 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔
ریکوڈک سے گوادر اور پورٹ قاسم تک سڑک اور ریل کے منصوبے جاری ہیں، جو اس منصوبے کو ایک "گیم چینجر" بناتے ہیں۔آخر میں انہوں نے بتایا کہ زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی کی حد 15 فیصد مقرر ہے، جس سے کاروباری برادری کو مزید سہولت دی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بچوں کے لیے ملکی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز میں خصوصی کوٹہ مختص کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ افراد جو سٹیٹ بینک کے ذریعے باقاعدگی سے ترسیلات زر بھجواتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال 14 اگست کو ایسے 15 نمایاں افراد کو سول ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد محنت کش اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کو تسلیم کرنا اور ترسیلات زر میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
نئی پنشن سکیم: قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران پنشن اصلاحات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پائیدار مالی نظم و ضبط کے لیے پنشن نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے تاکہ پنشن کا بوجھ کم کیا جا سکے۔پنشن میں اضافہ اب کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) سے منسلک ہوگا، جس کا مقصد مہنگائی کے مطابق پنشن میں خودکار اور شفاف اضافہ یقینی بنانا ہے۔فیملی پنشن کی مدت اب شریک حیات کے انتقال کے بعد 10 سال تک محدود کر دی گئی ہے۔
ایک سے زائد پنشن لینے کی اجازت ختم کر دی گئی ہے تاکہ نظام میں انصاف اور مالی نظم قائم رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد اگر کوئی فرد دوبارہ سرکاری ملازمت اختیار کرتا ہے تو اسے پنشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، دونوں اکٹھے لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سولر پینلز، پیٹرولیم مصنوعات اور آن لائن خریداری پر نئے ٹیکس نافذ
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعدد نئے ٹیکس متعارف کرا دیے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور درآمدی مسابقت کو متوازن بنانا ہے۔
پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر کاربن لیوی کی مد میں فی لیٹر 2.5 روپے اضافی چارج کیا جائے گا، جب کہ مالی سال 2026-27 تک یہ شرح بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے شعبے میں مالی استحکام ہے۔
بجٹ میں گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بجلی صارفین پر 10 فیصد سرچارج عائد کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔
ماحول دوست پالیسیوں کے تحت حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کی بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دینے کا اعلان کیا ہے۔ تیل سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت اور درآمد پر انجن کی گنجائش کے حساب سے لیوی عائد کی جائے گی۔
علاوہ ازیں، آن لائن اشیاء منگوانے والے صارفین پر بھی 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے، جو ای کامرس کے شعبے کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
فاٹا اور پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ، مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ فاٹا اور پاٹا کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں تیار کی جانے والی اشیاء پر مرحلہ وار سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے گا، اور آئندہ مالی سال سے 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔
آئی ٹی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ میں آئی ٹی برآمدات 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ حکومت نے آئندہ پانچ سال کے دوران ان برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس اور سائبر سیکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں ریلیف، تمام سلیبز میں کمی کی تجویز
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے لیے تمام انکم سلیبز میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ان کے مطابق 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح کو 5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کا ٹیکس موجودہ 30 ہزار روپے سے کم ہو کر صرف 6 ہزار روپے رہ جائے گا۔
22 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے گھٹا کر 11 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کرکے 23 فیصد کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن رکھنے والوں پر عائد اضافی سرچارج میں 1 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ باصلاحیت افراد کی بیرونِ ملک ہجرت (Brain Drain) کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
پراپرٹی سیکٹر اور کارپوریٹ اداروں کے لیے بڑا ریلیف
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں جائیداد اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے متعدد اہم مراعات کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔
کمرشل جائیداد، پلاٹس اور گھروں کی ٹرانسفر پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، جو پچھلے بجٹ میں 7 فیصد عائد کی گئی تھی۔
جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی گئی ہے، پہلی سلیب: 4 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد، دوسری سلیب: 3.5 فیصد سے 2 فیصد، تیسری سلیب: 3 فیصد سے 1.5 فیصد، اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ 10 مرلہ گھروں اور 2 ہزار مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ مڈل کلاس طبقے کو ریلیف دیا جا سکے۔
کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھی ریلیف
سالانہ 20 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کی گئی ہے۔