جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، خام تیل 7 ہفتوں کی کم ترین سطح پر

12:07 AM, 10 Jun, 2026

واشنگٹن: ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جسے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد کمی کے بعد 90.85 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.1 فیصد کمی کے ساتھ 87.59 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہوا۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق برینٹ خام تیل 17 اپریل کے بعد اور ڈبلیو ٹی آئی 29 مئی کے بعد اپنی کم ترین سطح کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی استحکام آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا تھا۔ اس صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتیں کورونا وبا کے بعد اپنی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھیں۔

تاہم جنگ بندی اور سفارتی رابطوں میں پیش رفت کی خبروں کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی منڈی میں خطرات کا اضافی دباؤ کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی طویل المدتی سمجھوتے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں مزید نیچے آ سکتی ہیں اور مارکیٹ معمول کی صورتحال کی طرف واپس لوٹ سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کا الزام اور ممکنہ جوابی کارروائی کے بیانات کے باعث مارکیٹ میں کچھ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق فوری طور پر کسی بڑے فوجی تصادم کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔

مزیدخبریں