اسلام آباد : وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو کسی صورت مقامی سیاست یا سوشل میڈیا ریٹنگ کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور دفاعی ریاست ہے، جس کا خطے میں کلیدی کردار ہے۔ موجودہ کشیدہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنا دورہ روس بھی ملتوی کر دیا ہے اور وہ مسلسل علاقائی سربراہان سے رابطے میں ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر غیر ذمہ دارانہ بحث سے اجتناب کیا جائے۔ اعظم نذیر تارڑ نے انتباہ دیا کہ اگر کسی نے بھی اس حساس معاملے پر "ریڈ لائن" کراس کی تو قانون فوری طور پر حرکت میں آئے گا۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 19 کے تحت آزادیِ اظہارِ رائے حاصل ہے، لیکن اسلام، ملکی سلامتی اور قومی سکیورٹی جیسے معاملات پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی موجود ہیں جن کا احترام لازم ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا صارفین اور تجزیہ کاروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زیادہ ویوز (Views) لینے کے چکر میں ایک خطرناک "بھیڑ چال" چلی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ تبصرے کیے جاتے ہیں تو دوسرے ممالک اسے "ریاستی پالیسی" سمجھ لیتے ہیں، جس سے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچتا ہے۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ مقامی سیاست پر تنقید کی پوری گنجائش موجود ہے، لیکن خارجہ پالیسی کو سیاسی ایجنڈے یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر زیرِ بحث لانا ملکی مفاد کے خلاف ہے۔حکومت نے میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ دفترِ خارجہ کے آفیشل مؤقف کی پیروی کریں اور حساس عالمی معاملات پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔
قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، ریڈ لائن عبور کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی: وفاقی وزراء کا سخت انتباہ
04:38 PM, 10 Mar, 2026