اسلام آباد: پاکستان میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل انقلاب کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک میں پہلی بار فائیو جی (5G) سپیکٹرم کی نیلامی کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے، جس کے ابتدائی دو راؤنڈز کامیابی سے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، نیلامی کے دوران 2600 میگا ہرٹز (MHz) بینڈ میں سپیکٹرم کی بولی لگائی گئی۔ پہلے راؤنڈ میں مجموعی طور پر 190 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب تھا، جس کے لیے ملک کی تینوں بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی اور بولی کے عمل میں حصہ لیا۔ مجموعی طور پر 6 میں سے 2 بینڈز کے لیے اب تک بولی لگائی جا چکی ہے، جبکہ 2600 میگا ہرٹز کے لیے بقیہ عمل اگلے راؤنڈ میں جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزہ فاطمہ خواجہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاپاکستان میں پہلی بار فائیو جی متعارف کروانا ہماری ترجیح ہے۔ جدید اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی نہ صرف صارفین کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملکی معیشت کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
فائیو جی ٹیکنالوجی کے آنے سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار موجودہ فور جی (4G) کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے آن لائن فری لانسنگ اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور سمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ تعلیم، صحت اور صنعت کے شعبوں میں ڈیجیٹل جدت آئے گی۔حکومت کو امید ہے کہ اس نیلامی کے عمل سے قومی خزانے کو خطیر ریونیو حاصل ہوگا اور پاکستان دنیا کے ان ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا جہاں جدید ترین مواصلاتی سہولیات میسر ہیں۔
پاکستان میں 5G کا سنگِ میل: سپیکٹرم نیلامی کے دو راؤنڈ مکمل، انٹرنیٹ کی رفتار میں انقلاب دستک دینے لگا
05:08 PM, 10 Mar, 2026