لاہور اور پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت: شہریوں کے لیے شدید خطرہ

12:55 PM, 10 Nov, 2025

لاہور : لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں فضائی آلودگی کی صورتحال آج بھی انتہائی مضرِ صحت ہے، جس کی شدت شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق، گوجرانوالہ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے ساتھ 517 کے ساتھ سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا ہے۔ لاہور پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں تیسرے نمبر پر ہے، جہاں سموگ کی اوسط شرح 394 تک پہنچ گئی ہے۔

لاہور میں مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شدت میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ڈی ایچ اے کے علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس 759 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برکی روڈ پر 661 اور ایف سی کالج کے اطراف میں 611 کا ایئر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ ہوا ہے۔ یہ سطح عالمی سطح پر "انتہائی مضر" سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی میں مسلسل اضافہ شہریوں کی صحت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں باہر جانے سے پرہیز کریں تاکہ وہ آلودگی سے بچ سکیں۔

فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی شدت شہریوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر رہی ہے اور اس کے اثرات بچوں، بزرگوں اور سانس کے مسائل میں مبتلا افراد پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں