سیلابی ریلے سندھ میں داخل، دریائے سندھ اور ستلج میں پانی کی سطح بلند، کئی علاقے زیرِ آب

10:08 AM, 10 Sep, 2025

سکھر : پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے اب سندھ میں داخل ہو چکے ہیں، جس کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو گئی ہے۔ ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

گڈو بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 43 ہزار کیوسک ہے، اور سکھر بیراج پر 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے دونوں بیراجوں کے تمام گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔
ادھر ہیڈ گنڈا سنگھ پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا آیا، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس شدید ریلے کے نتیجے میں بہاولپور کے تقریباً 100 دیہات اور مواضع زیرِ آب آ گئے اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

منچن آباد میں بھی ستلج کے ریلے سے بھاری نقصان ہوا، جہاں 67 دیہات، رابطہ سڑکیں اور کھیت ڈوب گئے۔
بہاولنگر کے علاقے بھکاں پتن میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ اوچ شریف میں دریائے چناب اور ستلج کے ریلوں سے کئی دیہات متاثر ہوئے۔

ادھر پاکپتن میں بھی صورتحال خراب ہو چکی ہے، جہاں بابا فرید پل کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 25 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی نقل مکانی اور فصلوں کی تباہی سے صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔

مزیدخبریں