آئی ایم ایف کی سخت شرائط، یکم اکتوبر سے گاڑیوں کی تیاری اور درآمد پر پابندیاں سخت

04:34 PM, 10 Sep, 2025

اسلام آباد : عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں مقامی اور درآمدی گاڑیوں کے لیے سخت حفاظتی اور معیار کے اصول نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ یکم اکتوبر سے مقامی گاڑیوں کو 57 سیفٹی سٹینڈرڈز پر عمل کرنا لازمی ہوگا، جبکہ ابھی صرف 17 پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔

موٹر وہیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت غیر تصدیق شدہ گاڑیاں مارکیٹ میں فروخت نہیں ہو سکیں گی اور ہر مینوفیکچرنگ پلانٹ کو متعلقہ لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔ امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے بھی سخت معیار، بشمول چیسز اور انجن نمبر کی موجودگی، سیفٹی فیچرز، اور کوالٹی کنٹرول لازمی قرار دیا گیا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کے لیے بیٹری کی کارکردگی، چارجنگ اسٹینڈرڈز اور ریسائیکلنگ کی جانچ بھی ضروری ہوگی۔ ناقص معیار یا ماحولیات کے خلاف گاڑیوں کی درآمد مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

پاکستان آٹو موٹیو انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے گا جو مقامی پارٹس کی کوالٹی کو یقینی بنائے گا۔ امپورٹ پالیسی میں تبدیلی 30 ستمبر سے نافذ العمل ہو جائے گی۔

مزیدخبریں