اسلام آباد: پاکستان اس وقت پوری دنیا میں امن کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ اسلام آباد میں آج وہ تاریخی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے جس کا دنیا کو دہائیوں سے انتظار تھا۔ ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں امن کی میز سج گئی ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عالمی تنازعات کے حل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایران کا وفد سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اسلام آباد پہنچ چکا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور معاون خصوصی اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ پہنچ گئے ہیں۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا، جو اس مشن کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان کی اس عظیم سفارتی کامیابی پر ملک بھر کے شہریوں میں فخر کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی شبانہ روز محنت اور دور اندیشی نے پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر دنیا کا سفارتی مرکز بنا دیا ہے۔ آج پاکستان کا جو مثبت اور طاقتور امیج سامنے آیا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان مذاکرات کو دنیا کا "سب سے طاقتور ری سیٹ" قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی میزبانی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انہیں واضح گائیڈ لائنز دی ہیں اور انہیں کامیابی کا پورا یقین ہے۔آج اسلام آباد دنیا کا وہ محفوظ ترین مقام بن گیا ہے جہاں سے عالمی امن کا راستہ نکل رہا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہے بلکہ دنیا کو جوڑنے اور امن قائم کرنے کی صلاحیت رکھنے والا سب سے ذمہ دار ملک ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اب اس "امن کے گہوارے" سے نکلنے والے تاریخی فیصلے پر لگی ہوئی ہیں۔
پاکستان امن کا عالمی محور؛ اسلام آباد میں صدی کے سب سے بڑے امریکی و ایرانی مذاکرات کی میز سج گئی
12:20 PM, 11 Apr, 2026