نوبل امن انعام کی گونج اور نصراللہ ملک کا دفاع:دنیا معترف، بھارت میں صفِ ماتم،نیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر   کے خلاف 'گودی میڈیا' کی مہم شروع

02:10 PM, 11 Apr, 2026

اسلام آباد / نئی دہلی : سال 2026 کے آغاز میں عالمی افق پر منڈلاتے تیسری عالمی جنگ کے سیاہ بادلوں کو چھٹانے میں پاکستان کے کلیدی اور مصالحتی کردار نے دنیا بھر کی قیادت کو حیران کر دیا ہے۔ جہاں واشنگٹن سے بیجنگ تک پاکستان کی 'شٹل ڈپلومیسی' کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، وہیں بھارت کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید بے چینی اور "صفِ ماتم" بچھی ہوئی ہے۔
پاکستان کی اس غیر معمولی کامیابی، جس نے مشرقِ وسطیٰ اور بڑی طاقتوں کو براہِ راست تصادم سے بچایا، کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے 'سافٹ امیج' میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے اندر اور بین الاقوامی حلقوں سے یہ پرزور مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو ان کی امن کوششوں کے اعتراف میں نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize) سے نوازا جائے۔ پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے پیش کی گئی قرارداد نے بھارت میں کھلبلی مچا دی ہے۔
پاکستان کی اس سفارتی برتری نے بھارتی "گودی میڈیا" کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ نیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور سینئر صحافی نصراللہ ملک، جنہوں نے اپنے پروگراموں اور تجزیوں میں پاکستان کے اس موثر کردار کو جرات مندانہ انداز میں پیش کیا اور بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، اب بھارتی میڈیا کے خصوصی نشانے پر ہیں۔
بھارتی نیوز چینلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر نصراللہ ملک اور دیگر پاکستانی تجزیہ کاروں کے خلاف ایک منظم اور زہریلی مہم شروع کر دی گئی ہے۔ بھارتی اینکرز اس بات پر سیخ پا ہیں کہ پاکستان، جسے وہ عالمی سطح پر تنہا کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے، اب عالمی امن کے مرکز کے طور پر ابھرا ہے اور دنیا اسے "نجات دہندہ" کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
دوسری جانب بھارت کے اندر سے بھی مودی حکومت پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے اسے مودی کی خارجہ پالیسی کی "بدترین ناکامی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب پاکستان عالمی جنگ رکوا رہا تھا، بھارت محض تماشائی بنا رہا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نصراللہ ملک جیسے جرات مند صحافیوں کے خلاف بھارتی مہم دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا سچا بیانیہ سرحد پار "نشانے" پر لگا ہے۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے بلکہ وہ عالمی سطح پر امن کا سب سے بڑا ضامن بھی ہے۔ پاکستان کی اس سفارتی فتح نے بھارت کے برسوں پرانے "پاکستان مخالف" بیانیے کو خاک میں ملا دیا ہے، اور اب دنیا پاکستان کو ایک مشکل کشا ریاست کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

مزیدخبریں