معزول شامی صدر بشار الاسد کو غیر حاضری میں سزائے موت سنا دی گئی

07:03 PM, 11 Aug, 2026

دمشق : شام کی ایک عدالت نے منگل کے روز معزول صدر بشار الاسد اور سابق حکومت سے وابستہ دو اہم شخصیات کو سزائے موت سنادی۔ عدالت نے تینوں کو ملک میں تقریباً 14 برس تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران قتل، تشدد، غیر قانونی حراست اور دیگر سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد کو عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی۔

یہ فیصلہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے خلاف کسی شامی عدالت کی جانب سے جاری ہونے والی پہلی سزا ہے۔ دسمبر 2024 میں باغی گروہوں کی تیز رفتار پیش قدمی کے نتیجے میں دمشق پر قبضہ ہوگیا تھا، جس کے بعد بشار الاسد ملک چھوڑ کر روس چلے گئے، جہاں انہیں انسانی بنیادوں پر پناہ دی گئی اور وہ اب بھی اپنے خاندان کے بعض افراد کے ساتھ مقیم ہیں۔

عدالتی فیصلے کی خبر سامنے آنے کے بعد دمشق میں عدالت کے باہر بڑی تعداد میں شہری جمع ہوگئے۔ لوگوں نے شامی پرچم لہراتے ہوئے نعرے لگائے، تالیاں بجائیں اور فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا۔

عدالت نے بشار الاسد کو متعدد سنگین جرائم کا ذمہ دار قرار دیا، جن میں ایک سے زیادہ افراد اور بچوں کا جان بوجھ کر قتل، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت کا حکم جاری کیا۔

بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد کو بھی یہی سزا سنائی گئی۔ وہ سابق حکومت کی طاقتور فور آرمڈ ڈویژن کے سربراہ رہے تھے، جس پر حکومت مخالف مظاہروں کو کچلنے اور باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرنے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اس یونٹ پر سابق حکومت کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کی غرض سے منشیات کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات بھی لگتے رہے۔

سابق سیکیورٹی اہلکار عاطف نجیب کو بھی عدالت نے سزائے موت سنائی۔ نجیب شام کے جنوبی صوبے درعا میں سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیتے تھے، جہاں 2011 میں بشار الاسد کے خلاف عوامی تحریک نے جنم لیا تھا۔

عاطف نجیب کا تعلق الاسد خاندان سے بھی بتایا جاتا ہے۔ انہیں شامی سیکیورٹی فورسز نے 2025 کے اوائل میں گرفتار کیا تھا اور وہ اس مقدمے میں واحد ملزم تھے جو ذاتی طور پر عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ بشار الاسد اور ماہر الاسد کے خلاف کارروائی ان کی غیر موجودگی میں جاری رہی۔

فیصلے کے بعد درعا میں بھی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ متعدد افراد نے جنگ کے دوران ہلاک یا لاپتا ہونے والے اپنے عزیزوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ ان تصاویر میں 13 سالہ حمزہ الخطیب کی تصویر بھی شامل تھی۔ کارکنوں کے مطابق حمزہ کو 2011 میں سیکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں وہ ہلاک ہوگیا۔

مقدمے کی کارروائی میں شریک پراسیکیوٹر نوحہ المصری نے بھی جنگ کے دوران اپنے خاندان کے ایک فرد کو کھویا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی کو 2011 میں درعا میں حکومت مخالف مظاہرے کے خلاف کارروائی کے دوران قتل کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق عدالت کا فیصلہ ان بے شمار قربانیوں اور ان خاندانوں کے دکھ کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے جنگ کے دوران اپنے پیاروں کو کھویا۔

یہ فیصلہ تقریباً چار ماہ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے۔ شام کی نئی اسلام پسند قیادت نے اس مقدمے کو عبوری انصاف کے قیام اور سابق حکومت کے دور سے ملک کو آگے لے جانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

تاہم قانونی ماہرین نے سزائے موت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سزا کے باعث بشار الاسد اور سابق حکومت کے دیگر مطلوب افراد کو شام واپس لانا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

شامی سینٹر فار لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے سربراہ انور البنی کے مطابق عام طور پر ممالک ایسے ملزمان کو کسی ایسے ملک کے حوالے کرنے سے گریز کرتے ہیں جہاں انہیں پھانسی دیے جانے کا خدشہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ فیصلہ سابق حکام کو شام واپس لانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور یہ کارروائی حقیقی عبوری انصاف کے بجائے علامتی نوعیت اختیار کر سکتی ہے۔

بشار الاسد 1965 میں پیدا ہوئے اور اپنے والد حافظ الاسد کی وفات کے بعد 2000 میں شام کے صدر بنے۔ انہوں نے اپنے خاندان کی طویل عرصے سے جاری سیاسی حکمرانی کو برقرار رکھا۔ ان کے دور میں شام روس اور ایران کے قریب رہا، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ رہے۔

2011 میں عرب دنیا میں اٹھنے والی عوامی تحریکوں کا اثر شام تک پہنچا تو بشار الاسد کے خلاف جمہوریت کے حامی مظاہرے شروع ہوئے۔ حکومتی فورسز کی سخت کارروائی کے بعد احتجاج نے ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کرلی، جس میں لاکھوں افراد مارے گئے اور بڑی تعداد میں شہری بے گھر ہوئے۔

بشار الاسد کئی برس تک جاری رہنے والی لڑائی کے باوجود اقتدار پر قابض رہے اور باغی گروہوں کی جانب سے شام کے مختلف علاقوں پر قبضے کے باوجود ان کی حکومت برقرار رہی۔ تاہم 2024 میں حالات اچانک تبدیل ہوگئے، جب احمد الشرع کی قیادت میں باغی فورسز نے ملک بھر میں تیزی سے پیش قدمی شروع کی۔

یہ کارروائی دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں دمشق تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں بشار الاسد کو اقتدار چھوڑ کر شام سے فرار ہونا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے روس میں پناہ حاصل کرلی۔

بشار الاسد کو فرانس میں بھی مطلوب قرار دیا گیا ہے، جہاں 2012 میں حمص میں ایک میڈیا مرکز پر بمباری کے معاملے میں ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جا چکا ہے۔

مزیدخبریں