افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، افغانستان کے علما کا بڑا اعلان

09:34 AM, 11 Dec, 2025

کابل: افغانستان کے ایک ہزار سے زائد علما اور مذہبی عمائدین نے ایک اہم اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اجتماع میں علما نے ملک کی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان کے حقوق، اقدار اور شرعی نظام کا تحفظ ہر افغان پر "فرضِ عین" ہے۔

اجلاس میں افغان حکومت، یعنی اسلامی امارت، کو یہ تنبیہ کی گئی کہ عسکری سرگرمیوں کے لیے کسی کو بھی افغان سرزمین سے باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے، اور نہ ہی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کی جائے۔ علما نے اس بات پر زور دیا کہ جو بھی اس فیصلے کی خلاف ورزی کرے گا، اسلامی امارت کو اس کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہوگا۔

کابل میں ہونے والے اس اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے تقریباً ایک ہزار علما اور مذہبی رہنماؤں نے افغانستان کی خودمختاری کو درپیش مبینہ خطرات پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اس موقع پر، افغان علما نے اعلان کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بیرونی جارحیت کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے، اور اس مقصد کے لیے وہ کسی بھی جابر طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر علما نے ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں افغانستان کی امن و امان، خودمختاری کے احترام، اور داخلی نظم و ضبط کے اصولوں پر زور دیا گیا۔

مزیدخبریں