لندن ہائی کورٹ کا بریگیڈیئر راشد نصیر کے حق میں فیصلہ، عادل راجہ جھوٹا قرار

10:16 AM, 11 Dec, 2025

لندن: لندن ہائی کورٹ نے بریگیڈیئر راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے عادل راجہ کو جھوٹا قرار دے دیا۔ عدالت نے عادل راجہ کو 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، ساتھ ہی اس پر بھاری قانونی اخراجات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ عادل راجہ کو 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ بطور عبوری اخراجات فوراً ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جون 2022 میں عادل راجہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد، بلا ثبوت اور جھوٹ پر مبنی تھے۔ عادل راجہ کو 28 دن تک فیصلے کا خلاصہ تمام پلیٹ فارمز پر نمایاں جگہ پر پوسٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اور اس کو جھوٹے دعوے دہرانے سے روکنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر عادل راجہ نے عدالت کے حکم کی تعمیل نہ کی تو اسے توہین عدالت، جرمانہ اور جیل کی سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔ عدالت نے پنجاب الیکشن، مبینہ ملاقاتوں اور ریجیم چینج کے حوالے سے عادل راجہ کے تمام بیانیوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف شخصیت کشی تھا، اور ان الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

لندن ہائی کورٹ نے عادل راجہ کے الزامات کو حساس نوعیت کے جعلی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ ان کی کارروائیاں بریگیڈیئر راشد نصیر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش تھی جو کہ غلط ثابت ہو چکی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ تمام ادائیگیاں 22 دسمبر 2025 تک لازمی طور پر کی جانی چاہئیں، اور عدالتی فیصلے کا لنک ہر پلیٹ فارم پر واضح اور نمایاں طور پر دستیاب رہنا چاہیے۔

مزیدخبریں