اسرائیل کی مغربی کنارے میں 764 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری، فلسطینی اتھارٹی کی مذمت

02:15 PM, 11 Dec, 2025

غزہ: اسرائیل نے مغربی کنارے کی تین بستیوں میں 764 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس پر فلسطینی اتھارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی کوششوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی آبادکاریوں کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموتریچ نے کہا ہے کہ 2022 کے آخر میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد اسرائیلی حکومت کی ہائر پلاننگ کونسل مغربی کنارے میں 51,370 رہائشی یونٹس کی منظوری دے چکی ہے۔ سموتریچ فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں اور ان کے مطابق یہ آبادکاری اسرائیل کے مفاد میں ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست بنانا چاہتے ہیں، اور فلسطینی اتھارٹی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ یہ آبادکاریوں کا سلسلہ روکا جائے۔

فلسطینی صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ امریکہ کو اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ فلسطینی علاقوں کی قبضے، توسیع اور آبادکاری کی پالیسیوں کو ختم کرے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔ یہ نئے رہائشی یونٹس ہشمو ناعیم، گیوَت زیو اور بیتار علیت میں تعمیر کیے جائیں گے۔

دنیا کے بیشتر ممالک اسرائیل کی ان آبادکاریوں کو غیر قانونی سمجھتے ہیں، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں اسرائیل سے ان آبادکاریوں کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف نے کہا کہ "ہمارے لیے تمام آبادکاریاں غیر قانونی ہیں اور یہ بین الاقوامی قراردادوں کے خلاف ہیں۔"

اس کے ساتھ ہی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 24 گھنٹوں میں مزید 3 فلسطینی شہری شہید اور 5 زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی 738 بار خلاف ورزی کی ہے، جس کے نتیجے میں 379 فلسطینی شہید اور 1,000 زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطینی شہداء کی مجموعی تعداد 70,366 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 171,064 ہو چکی ہے۔

مزید برآں، اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے فلسطینی عوام کو بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، اور حالیہ موسمی حالات، خاص طور پر طوفان بائرن کی وجہ سے سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جس سے فلسطینی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

مزیدخبریں