پاکستان کو بنے 79 سال ہو چکے، ملک کی گورننس میں کوئی بہتری نہیں آئی ، چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

12:22 PM, 11 Dec, 2025

گوجرانوالا: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو بنے 79 سال ہو چکے ہیں لیکن اس وقت تک ملک کی گورننس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں جو پوٹینشل موجود ہے، اس سے آج تک بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور بڑے صوبے ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

ایپ سپ کی جانب سے ملک گیر آگاہی مہم کے سلسلے میں "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" کے عنوان سے گفٹ یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 65 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر ان نوجوانوں میں سے صرف 1 فیصد یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے نوجوانوں کو تعلیم کے بہترین مواقع نہیں مل رہے، جس سے ملک کی ترقی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔

انہوں نے 1973 کے آئین کے بعد پاکستان میں صوبوں کی تقسیم اور گورننس سسٹم پر بات کی اور کہا کہ پاکستان کے چار صوبے ہیں، مگر ان میں سے صوبہ پنجاب پاکستان کی آبادی کا 52 فیصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں واحد ملک ہے جس کا ایک فیڈریٹنگ یونٹ باقیوں سے بڑا ہے، اور اتنے بڑے صوبے ملک کی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔

میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ پاکستان کی تعلیمی، صحت، انفراسٹرکچر اور انصاف کے شعبوں میں ہم دنیا کے آخری ممالک میں شامل ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے مختلف شعبوں میں بہتری لانی ہوگی تاکہ 100 سال بعد بھی ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکے۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا آدھا حصہ ہے، مگر وہاں امن و امان قائم کرنا ابھی تک مشکل ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے دیگر شہروں، خاص طور پر فیصل آباد اور گوجرانوالہ، میں بھی ترقی کے فقدان کا ذکر کیا۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، مگر وہاں کوئی اچھا ہسپتال، یونیورسٹی یا کالج موجود نہیں۔ فیصل آباد کے باشندوں کو اپنے اہم کاموں کے لیے لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کو پاکستان کے انڈسٹریل حب کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ اگر ان علاقوں کو ایک ساتھ ملا کر گولڈن ٹرائی اینگل بنایا جائے تو یہ لاہور کے مقابلے میں پاکستان کا ایک مضبوط اقتصادی مرکز بن سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان علاقوں کو حکومت کی جانب سے مناسب سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

میاں عامر محمود نے پنجاب حکومت کے تعلیمی نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پنجاب حکومت لاہور میں بیٹھ کر صوبے کے 60,000 سکولوں کو چلانے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ اسی طرح سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی تعلیم کی حالت خراب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت ایک سکول کے ایک بچے پر ماہانہ 4,400 روپے خرچ کرتی ہے، جبکہ یہ رقم کم نہیں ہے، اور وسائل کی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پبلک سیکٹر ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر سالانہ 60 لاکھ روپے خرچ کرتی ہے، مگر پھر بھی اس میں بہتری نہیں آ رہی۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ہے، اور دنیا کے صرف 12 ملک اس سے بڑے ہیں، جبکہ دنیا کے 172 ممالک کا رقبہ بلوچستان سے چھوٹا ہے۔ اس کے باوجود، صوبے کے اندر وسائل کی کمی کی بات کی جاتی ہے۔

میاں عامر محمود نے اختتام پر کہا کہ اگر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو ہمیں اپنے گورننس سسٹم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اور چھوٹے صوبوں کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنا ہوگا تاکہ ملک کے تمام حصے یکساں طور پر ترقی کر سکیں۔

مزیدخبریں