تحریر: طارق وسیم
سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔جس کا اطلاق آج سے ہوگا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ان کے جرائم میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ,سیاسی معاملات میں مداخلت دیگر جرائم شامل ہیں ۔
اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک سمجھے جانے والے سینیٹر فیصل واؤڈا کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے بطور پارٹی قائم رہنا ہے تو اپنے بانی کو مائنس کرنا ہوگا ایسا نہ کیا تو پوری جماعت ہی مائنس ہو جائے گی،ملک کے طول وعرض میں موسم اگرچہ سرد ہے لیکن سلام ہے پاکستانی سیاست پر جو ہمیشہ گرم رہتی ہے ۔ مائنس ون،نازک موڑ ،حقیقی جمہوریت پاکستان میں بار بار دہرائے جانے والے ایسے الفاظ ہیں جو آہستہ آہستہ اپنا اثر کھوتے جارہے ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی جیل ملاقاتوں میں اپنی بہنوں سے دشنام بکتے ہیں ، ان کی جماعت سوشل میڈیا پر انتہائی لغو زبان استعمال کرتی نظر آتی ہے ۔ آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر چند لوگ جمع ہو کر اپنے لیڈر سے جیل مینوئل کے بر عکس ملاقات کا مطالبہ کرتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ رانا ثنا اللہ کو کہنا پڑا کہ بانی کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا امکان موجود ہے۔
پنجاب میں زور شور سے ترقیاتی کام جاری ہیں ، اور ان کی پروجیکشن بھی موثر انداز میں کی جارہی ہے ۔بد قسمتی سے سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جیسے لوگ طاقت کے نشے میں اتنے چور ہو جاتے ہیں کہ وہاں بھی ٹانگ اڑانے لگتے ہیں جہاں ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔سکندر دنیا فتح کرنے کے بعد یونان پہنچا،تو کسی نے مشورہ دیا اپنے استاد دیو جانس کلبی کی خدمت میں حاضری دو ،لاؤ لشکر کے ساتھ ایتھنز کے مرکزی بازار پہنچا تو دیو جانس کلبی کو اسی درخت کے نیچے مراقبے کی حالت میں بیٹھا دیکھا جو ان کی رہائش بھی تھا اور درسگاہ بھی ۔
عرض کی استاد محترم ساری دنیا فتح کر چکا ہوں ،لوگ الیگزینڈر دی گریٹ کا لقب دے چکے ،آپ نے کبھی مجھ سے پانی کا گلاس بھی طلب نہیں کیا ،مجھے حکم دیں کیا خدمت کروں ۔یہاں سے اٹھیں اور میرے ساتھ شاہی محل میں چلیں ،دیو جانس کلبی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔سکندر نے سوال دہرایا ، جواب نہیں ملا ،دوزانوں ہو کر گویا ہوا استاد ذی احترام مجھ سے کیا غلطی ہو گئی جو آپ جواب بھی نہیں دے رہے ۔دیو جانس کلبی بولے سکندر تو میری دھوپ کے راستے میں کھڑا ہے اور خاموش ہو گئے ۔سکندر کو جواب مل چکا تھا سو لاؤ لشکر کے ساتھ واپس لوٹ گیا۔ اس ملک کی اشرافیہ اور طاقتور حلقوں کو بھی چاہیے عوام کا خیال رکھیں۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے