خواتین کو معمولی لباس پہننا چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عبایا پہنیں:سعودی عالم کا فتویٰ

خواتین کو معمولی لباس پہننا چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عبایا پہنیں:سعودی عالم کا فتویٰ

خواتین کیلئے عبایا پہننا ضروری ہے یا نہیں،سعودی عالم کے فتویٰ نے سب کچھ واضح کردیا،مسلم خواتین کے بڑی خبر آگئی
۔۔۔۔۔۔


مکہ مکرمہ:خواتین کے عبایا پہننے کے حوالے سے سعودی علما کمیٹی کے سینئر رکن شیخ ڈاکٹر عبدالمطلق نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ خواتین کو معمولی لباس پہننا چاہیے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ عبایا پہنیں اورسعودی عرب میں خواتین کو عبایا پہننے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی عالم نے کہا کہ خواتین کے لیے عبایا لازمی نہیں کیونکہ شرعی احکامات کے تحت ’پردہ ‘ کرنا لازمی ہے جس کے لیے شرعی تقاضوں کے تحت کوئی بھی طریقہ اپنایا جاسکتا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ مسلم دنیا میں 90 فیصد سے زائد متقی مسلم خواتین عبایا نہیں پہنتی، لہٰذا ہم لوگوں کو عبایا پہننے پر مجبور کرنا نہیں چاہتے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب میں سینئر علماءکونسل سے منسلک سرکاری علما ءکوہی صرف اس بات کی اجازت ہے کہ وہ فتویٰ یا کوئی اسلامی قانونی رائے جاری کرسکیں جبکہ اسی اسلامی قانون کی تشریحات سے سعودی عرب کا قانونی نظام تشکیل دیا جاتا ہے۔


واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں سعودی خواتین نے رنگ برنگی عبایا پہننا شروع کردیے ہیں جبکہ روایتی سیاہ عبایا کے علاوہ ہلکا نیلا اور گلابی عبایا بھی پہنا جارہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے کچھ حصوں میں کھلے عبائے، لمبی سکرٹ یا جینز پہننے کا رواج بھی عام ہوتا جارہا ہے۔