آزاد کشمیر کا اگلا صدر کون؟ ایوانِ صدر میں بڑی بیٹھک ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکمت عملی سامنے آگئی

03:03 PM, 11 Feb, 2026

اسلام آباد / مظفر آباد: بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کے بعد خالی ہونے والے صدرِ ریاست کے عہدے کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آج شام ایوانِ صدر میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں صدارتی امیدوار کے نام کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
اس وقت صدارتی منصب کے لیے کئی قد آور شخصیات کے نام گردش میں ہیں۔    پیپلز پارٹی سے: چوہدری رشید، چوہدری لطیف اکبر، چوہدری یاسین اور سردار محمد یعقوب خان کا نام سامنے آیا ہے۔     دیگر حلقوں سے،۔ سردار تنویر الیاس، سردار عتیق احمد خان، اور راجہ فاروق حیدر کے ناموں پر بھی لابنگ جاری ہے۔
آزاد کشمیر کے آئین کے تحت صدر کے انتخاب کے لیے 27 ووٹ (سادہ اکثریت) درکار ہیں۔پی پی پی کا موقف ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد کے بعد قائم ہونے والی ان کی حکومت کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود ہے۔
 سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے اکثریتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ صدارتی انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی اور موجودہ اسمبلی سے انتخاب کا راستہ روکنے کی کوشش کر سکتی ہے۔صدر کے انتخاب میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا خالی ہونا ہے۔    30 دن کی مہلت: آئینی طور پر الیکشن کمیشن 30 روز میں انتخاب کرانے کا پابند ہے۔
 چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیراعظم پاکستان (بطور چیئرمین کشمیر کونسل) نے کرنی ہے۔
 سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ن لیگ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر کے ذریعے صدارتی انتخاب کو نئی اسمبلی تک مؤخر کرانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
صدر زرداری اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی حالیہ ملاقات نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ جہاں پیپلز پارٹی اپنا صدر لانے کے لیے پرعزم ہے، وہیں ن لیگ یہ خدشہ ظاہر کر رہی ہے کہ اگر موجودہ اسمبلی سے صدر منتخب ہو بھی گیا تو حکومت بدلنے پر اسے ہٹایا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں