بھارت میں اقلیتوں کا جینا محال، امریکی کمیشن نے مودی سرکار کے ’سیکولر بھارت‘ کا پول کھول دیا

03:38 PM, 11 Feb, 2026

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے مودی سرکار کے دورِ حکومت میں بھارت کے اندر اقلیتوں کی ابتر صورتحال پر نئی دہلی کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندوتوا نظریات کے باعث مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف تشدد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے اب معمول کی بات بن چکے ہیں۔
امریکی کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں برس بھارت میں مسیحی برادری کے خلاف نفرت انگیز مہم اور جسمانی حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ریاست اوڑیسہ میں ایک مسیحی پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ مسیحی عبادت گاہوں کو شرپسندوں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کی ہولناک مثالیں دی گئی ہیں۔اتر پردیش میں 12 مسلمانوں کو ان کے اپنے گھر کے اندر نماز پڑھنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا، جسے رپورٹ میں بدترین امتیازی سلوک قرار دیا گیا ہے۔مذہب کی جبری تبدیلی کے من گھڑت الزامات لگا کر اقلیتوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کا سلسلہ عروج پر ہے۔
 بھارتی ریاست اقلیتوں کے تحفظ میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ کئی مقامات پر انتظامیہ ان مظالم میں شریک نظر آتی ہے۔بھارت میں رہنے والے مسلمان اور مسیحی اب اپنی نجی زندگیوں اور عبادتوں میں بھی خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔
 رپورٹ کے مطابق بھارت کا نام نہاد "سیکولر" چہرہ مسخ ہو چکا ہے اور یہ مذہبی آزادی کے لحاظ سے دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں