تحریر: طارق وسیم
آزاد جموں کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں 15 روز باقی ہیں ، عالمی منظر نامے کے تناظر میں یہ انتخابات انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں ،ریاست کی قانون ساز اسمبلی کی 45 براہ راست نشستیں ہیں ، سادہ اکثریت 27 نشستوں والی جماعت کو حاصل ہوتی ہے ،گزشتہ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے 29 نشستیں حاصل کر کے حکومت بنا لی تھی اپوزیشن کی 25
نشستیں تھیں ۔
گزشتہ دو برس میں کشمیر میں ایک گروپ متحرک ہوا جس نے حکومت پاکستان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور ریاستی اسمبلی میں مہاجروں کی 12 نشستوں سمیت مختلف مطالبات کیے۔ رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیر میں رہنے والوں کے مقامی افراد کی ثقافت اور زبانیں پنجاب کے شمالی اضلاع خصوصاً پوٹھوہارسے بہت زیادہ مماثلت رکھتی ہیں ۔ باغ، پونچھ،راولا کوٹ میں یہی زبان بولی جاتی ہے لیکن مقامی باشندے خود کو نسلی طور پر کشمیری کی بجائے پہاڑی کہتے ہیں۔گوجری ریاست کے مختلف حصوں میں گجر قبائل آباد ہیں جو گوجری زبان بولتے ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے گروہوں میں شامل ہیں،اعداد وشمار کے مطابق خالص کشمیری زبان بولنے والوں کی شرح آزاد کشمیر کی کل آبادی کا تقریباً 5 فیصد ہے۔ یہ زیادہ تر وادی نیلم، لیپہ اور مظفرآباد کے مخصوص علاقوں میں بولی جاتی ہے۔سدھنوتی اور مظفرآباد میں ہندکو بھی بولی جاتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں آباد کشمیری زیادہ تر مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔
27 جولائی کوہونے والے الیکشن اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ پہلی مرتبہ ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم میں اگرچہ اتنی تیزی نہیں لیکن وہ وقت کے حساب سے تیزی پکڑ لے گی اور سیاسی جماعتیں خاصی سرگرم ہوجائیں گی، نتائج کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے
طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔