واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائی کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کو مذاکرات کے ذریعے جوہری معاہدے میں بدلنے کا موقع سمجھتے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے "ایکسئیس" کے مطابق، صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کے مسئلے پر گہری بحث ہوئی۔ نیتن یاہو نے موقف اپنایا کہ ایران مذاکرات میں تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، اور اس پر فوجی دباؤ ڈالے بغیر جوہری معاہدے کی شرائط منوانا ممکن نہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس وقت طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے پا سکے۔
یہ گفتگو اُس ڈیڈلائن سے چند روز قبل ہوئی جس میں امریکا نے ایران کو دو ماہ کی مہلت دے رکھی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اس دوران سفارتی حل کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی تجاویز پر ردعمل تیار کرنا شروع کر دیا ہے، جو اس ہفتے منظرعام پر آنے کا امکان ہے۔