تہران: پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب دشمن کے خلاف صرف جوابی کارروائی (Retaliation) نہیں بلکہ "مسلسل حملوں" کی پالیسی اپنا لی گئی ہے۔ آپریشن 'وعدہ صدق 4' کے تحت امریکی اور اسرائیلی اہداف پر میزائلوں کی برسات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، تازہ ترین کارروائی 'یا امیرالمومنین' کے کوڈ نام سے شروع کی گئی، جس میں کثیر المقاصد وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت، خرم شہر اور عماد میزائل: طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران اب کسی حملے کے انتظار میں نہیں بیٹھے گا بلکہ دشمن کو "مکمل سزا" ملنے تک حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
یہ کارروائی سابق چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل امیر موسوی سمیت دیگر شہداء کے نام کی گئی ہے۔ خلیج فارس میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایرانی بیان کے مطابق، مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں گزشتہ 11 دنوں سے سائرن بج رہے ہیں اور آبادی پناہ گاہوں میں محصور ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود حامی گروہوں کی کارروائیوں کو ایرانی فوج کے حملوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
جوابی حملوں کا دور ختم، اب مسلسل کارروائی ہوگی:ایران کی نئی جنگی حکمت عملی
07:41 PM, 11 Mar, 2026