نااہلی کیس، وکیل نے عمران خان سے مشورے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا

02:09 PM, 11 May, 2017

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کی عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیئے کہ ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہو سکا ان سے مشاورت کے لئے وقت دیا جائے۔ انور منصور نے کہا کہ قانون کے مطابق کوئی فرد واحد کسی سیاسی جماعت کے اکاؤنٹس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

انہیں بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے سپریم کورٹ سمیت الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار پر تحفظات ہیں اور 184/3 کے تحت اس معاملے کی عدالت سماعت نہیں کر سکتی۔ عدالتی آبزرویشن پر پارٹی چیئرمین سے مشاورت اور ہدایت لینا ضروری ہے وہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرینگے۔

انور منصور نے اعتراف کیا کہ غیر ملکی حکومتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے فنڈ لینے پر پابندی ہے۔ غیرملکی فنڈنگ کو دیکھنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ وفاقی حکومت ریفرنس بھیجنے سے پہلے چھان بین کی پابند ہے۔ چھان بین کے بعد متعلقہ سیاسی پارٹی کو نوٹس بھیجا جاتا ہے اور شفاف ٹرائل سب کا بنیادی حق ہے۔

عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل کو اپنے موکل عمران خان سے مشاورت کے لئے وقت دے دیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کو مشاورت کا وقت دینے کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ کہ عدالت نے یہ دلیل تسلیم کر لی کہ فرد واحد معاملہ چیلنج نہیں کر سکتا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 23 مئی تک ملتوی کر دی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

مزیدخبریں