لاہور: برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی سجن جندل سے ایک حالیہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعتماد میں لیا ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فوجی قیادت کو بتایا ہے کہ سجن جندل اہم بھارتی حکام کی ایما پر ان سے ملنے آئے اور یہ ملاقات بھارت اور پاکستان کی کشیدگی کم کرنے کی بھارتی کوشش کا حصہ ہے۔
دوسری طرف فوجی قیادت نے بھی سجن جندل کی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں اپنے افسران کو اعتماد میں لیا ۔
وزیراعظم کے قریبی ساتھی نے بتایا کہ وزیراعظم نے سجن جندل سے ملاقات کے مندرجات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے صرف یہ بتایا کہ سجن جندل کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں .
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ سجن جندل کی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اور اس کے بعد اس بارے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم پاکستان کی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کسی بھی موقع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل میں بیک چینل یا سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں کا موضوع نہیں ہوں گے۔
واضح رہے وزیراعظم نواز شریف کی اس ملاقات پر انہیں اپوزیشن کی جانب سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس ملاقات پر ہونے والی قیاس آرائیوں کے بعد مریم نواز کو ٹوئٹر پر آ کر اس سلسلے میں وضاحت بھی دینی پڑی ہے۔
مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر لکھا تھا مسٹر جندل وزیر اعظم نواز شریف کے پرانے دوست ہیں۔ اس ملاقات میں کچھ بھی خفیہ نہیں تھا اس لیے اسے کسی خاص تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں