اسلام آباد : پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے 9 مئی کو ایک اہم پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاک فضائیہ نے دشمن کے خلاف کامیاب دفاعی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے پانچ جنگی طیارے تباہ کر دیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ جھڑپ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بہادری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے تین جدید رافیل طیارے، ایک مگ 29 اور ایک SU-30 مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پاکستان کی فضائی حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔
پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج اور ایئر فورس کے اعلیٰ حکام نے تباہ شدہ بھارتی طیاروں کے ناقابلِ تردید شواہد بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے، جن میں طیاروں کے مخصوص نمبرز، انجن، ٹیل سیکشنز اور ملبے کی تصاویر شامل تھیں۔ بتایا گیا کہ ایک رافیل طیارے کی ٹیل بھارتی فضائیہ کے 17 گولڈن ایرو اسکواڈرن سے تعلق رکھتی ہے۔
بھارت کی جانب سے اس واقعے کی تردید کی گئی، تاہم متعدد بھارتی صحافیوں اور میڈیا اداروں نے ابتدائی طور پر طیاروں کے گرنے کی تصدیق کی۔ ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ نے جموں و کشمیر کے علاقے پامپور سے ایک رافیل کے گرنے کی خبر دی، جبکہ ’’دی ہندو‘‘ اور ’’انڈین ایکسپریس‘‘ نے بھٹنڈہ اور رام بن میں دھماکوں اور طیارے گرنے کی رپورٹس جاری کیں، جو بعد میں مودی حکومت کے دباؤ پر ہٹا دی گئیں۔
بھارتی صحافی پراوین سواہنے اور کرن تھاپر نے بھی بھارتی طیاروں کی تباہی کی تصدیق کرتے ہوئے حکومت سے سوالات اٹھائے، جس پر انہیں میڈیا پلیٹ فارم ’’دی وائر‘‘ سے بلاک کر دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ "ہم 21ویں صدی میں رہ رہے ہیں، ہر چیز کا ایک ثبوت ہوتا ہے۔ بھارت چاہے جتنا بھی انکار کرے، حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔" پاکستانی عوام اور دفاعی ماہرین نے پاک فضائیہ کی اس تاریخی کامیابی پر فخر کا اظہار کیا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے خطے میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔