اسلام آباد: پاکستان نے بنوں کی فتح خیل پولیس پوسٹ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اس حملے کے تانے بانے براہِ راست افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔
نمائندہ نیو نیوز اسلام آباد ،،ذیشان سید کے مطابق پاکستان نے افغان سفارتکار کو احتجاجی مراسلہ تھماتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال اب ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود 'فتنہ الخوارج'، 'فتنہ الہندوستان' اور داعش جیسے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کثیر الجہتی مذاکراتی ادوار کے باوجود افغان انتظامیہ ان گروہوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹس بھی افغان سرزمین پر ان تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ دفتر خارجہ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملے نہ رکے تو پاکستان اپنی حدود اور شہریوں کے دفاع کے لیے دہشت گردوں کے خلاف 'فیصلہ کن جواب' دینے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔
بنوں حملہ: افغان ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی، پاکستان کا شدید احتجاج اور 'فیصلہ کن جواب' کا انتباہ
04:11 PM, 11 May, 2026