انتخابی انصاف میں غیر معمولی تاخیر، 2024 کے الیکشن کی 128 درخواستیں اب بھی التوا کا شکار:فافن کی رپورٹ

08:01 PM, 11 May, 2026

اسلام آباد : فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے عام انتخابات 2024 کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اپریل 2026 کے اختتام تک، یعنی دو سال گزرنے کے بعد بھی، ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 374 انتخابی درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں سے اب تک صرف 246 درخواستیں نمٹائی گئی ہیں، جبکہ 128 مقدمات تاحال زیرِ سماعت ہیں۔    قومی اسمبلی میں  124 میں سے 73 درخواستوں کا فیصلہ ہوا۔    صوبائی اسمبلیاں میں  250 میں سے 173 درخواستیں نمٹائی گئیں۔
رپورٹ میں صوبائی ٹربیونلز کے درمیان کارکردگی کا واضح فرق نظر آتا ہے۔      بلوچستان میں  94 فیصد درخواستوں پر فیصلے کر کے تمام صوبوں میں سب سے آگے رہا۔     پنجاب 77 فیصد انتخابی مقدمات نمٹائے گئے۔    خیبر پختونخوا 60 فیصد درخواستوں پر فیصلے ہوئے۔    سندھ  مقدمات نمٹانے کی رفتار انتہائی سست رہی جہاں صرف 29 فیصد کام مکمل ہوا۔
اسلام آباد کی کسی بھی انتخابی درخواست پر اب تک ایک بھی فیصلہ نہیں آ سکا، جو کہ ایک سوالیہ نشان ہے۔
ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد قانونی جنگ سپریم کورٹ تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 246 فیصلوں میں سے 123 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، مگر وہاں بھی اب تک صرف 18 اپیلوں پر فیصلہ سنایا گیا ہے، جبکہ 105 اپیلیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔
فافن نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق ان درخواستوں کا فیصلہ 180 دن کے اندر ہونا لازمی تھا، لیکن دو سال کا عرصہ گزرنا قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔

مزیدخبریں