ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد ہو گئی

03:25 PM, 11 Oct, 2017

اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملی مسلم لیگ کے وکیل راجا عبدالرحمان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ہمارے کسی پارٹی عہدیدار کا کالعدم تنظیم سے تعلق نہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ملی مسلم لیگ سے متعلق وزارت داخلہ کا خط آپ کے علم میں ہے جس پر وکیل نے کہا کہ خط میں کہا گیا کہ اس جماعت کی رجسٹریشن سے سیاست میں تشدد کا عنصر آ سکتا ہے اور ہمیں وزارت داخلہ کے خط میں استعمال کی گئی زبان پر اعتراض ہے۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وزارت داخلہ کے خط سے تو لگتا ہے آپ کی جماعت کا تعلق کالعدم جماعت سے ہے۔ وکیل نے کہا کہ وزارت داخلہ نے شواہد کے بغیر ایک جواب دے دیا ہے۔ کیا اب ہر سیاسی جماعت کو وزارت داخلہ سے کلیئرنس لینا ہو گی اور کیا الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کی سفارش پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ وفاقی حکومت سے رجوع کیوں نہیں کرتے جس پر وکیل نے کہا کہ کس قانون کے تحت ہم وفاقی حکومت سے رجوع کریں۔ الیکشن کمیشن جماعت کی رجسٹریشن کے لئے وزارت سے رائے لینے کا پابند نہیں۔ وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن پر فیصلہ کرے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے بعد ازاں سناتے ہوئے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں 4 رکنی الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ جب تک سیکیورٹی کلیئرنس نہیں دیتی رجسٹریشن نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ 7 اگست کو مذہبی جماعت 'جماعت الدعوۃ نے ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا جب کہ الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کے لئے این او سی طلب کیا تھا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہ کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر نئی جماعت کو رجسٹرڈ نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ خط کے مطابق وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہ کرنے کا فیصلہ وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیز کی سفارشات پر کیا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

مزیدخبریں