پنجاب میں دریائے چناب میں شدید سیلابی صورتحال، زرعی زمینوں کو بھاری نقصان

11:43 AM, 11 Sep, 2025

لاہور : پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دریائے چناب کے مقام ہیڈ پنجند پر سیلاب کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پانی کی سطح میں حالیہ دنوں میں کمی کے بعد دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت پانی کا بہاؤ چھ لاکھ 68 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے جو سمکہ چاچڑاں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اسی طرح دریائے سندھ کے تونسہ بیراج پر بھی سیلابی پانی کا ریلا دو لاکھ کیوسک کے قریب ہے۔ دریائے چناب کے تریموں بیراج سے سندھ کی جانب پانی کا ایک ریلا ایک لاکھ 88 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے جبکہ دریائے ستلج کے مقام گنڈا سنگھ والا پر بھی پانی کی سطح ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا سلسلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے جس کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔

دوسری طرف سیلاب کی وجہ سے پنجاب کی زرعی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ تقریباً 21 لاکھ 25 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔ خاص طور پر کپاس کی فصل کا 1 لاکھ 10 ہزار ایکڑ، چاول کا تقریباً 9 لاکھ 71 ہزار ایکڑ، مکئی کی 1 لاکھ 86 ہزار ایکڑ، اور گنے کی 2 لاکھ 20 ہزار ایکڑ زمین زیرِ آب آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ چارے اور سبزیوں کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ صورتحال کسانوں اور زراعت پر منحصر آبادی کے لیے بہت پریشان کن ہے کیونکہ فصلوں کا ضیاع معاشی نقصان اور خوراک کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

مزیدخبریں