نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین اور ٹوکنائزیشن کے پائیدار ترقی میں کردار اور ان سے متعلق پالیسی چیلنجز پر بریفنگ دی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یو این ڈی پی، یو این سی ٹی اے ڈی اور سیکریٹری جنرل کے ٹیکنالوجی کے لیے نمائندہ دفتر کے تعاون سے بریفنگ کا انعقاد کیا، جس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور سرکاری و نجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔
پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی عالمی مالیاتی نظام میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو نئی ٹیکنالوجیز کے صرف صارف بننے کے بجائے ان کی تشکیل اور پالیسی سازی میں بھی مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھانے کے لیے بین الاقوامی تعاون، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت ہے۔
وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک اور حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی جدت طرازی سرحد پار ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے، مالیاتی شمولیت بڑھانے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سرمایہ متحرک کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی کے ساتھ مؤثر ضابطہ کاری بھی ضروری ہے، واضح قوانین صارفین کے تحفظ، اعتماد میں اضافے اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے قیام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
بریفنگ میں پاکستان کی جانب سے ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام، قانون سازی، لائسنسنگ اقدامات اور ریگولیٹری سینڈ باکس سمیت مختلف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
شرکاء نے ڈیجیٹل فنانس، ڈیجیٹل شناخت، عوامی خدمات، شفافیت اور پائیدار ترقی میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سائبر سکیورٹی، ضابطہ کاری، ادارہ جاتی استعداد اور مساوی رسائی جیسے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا۔
اختتامی کلمات میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین مستقبل کے مالیاتی نظام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، تاہم ٹیکنالوجی سے حقیقی ترقیاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے مضبوط پالیسی، مؤثر ادارہ جاتی نظام اور محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ضروری ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس پر بریفنگ، ذمہ دارانہ ریگولیٹری نظام کی ضرورت پر زور
07:28 PM, 11 Sep, 2026