"ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی یا ابھی عمل باقی ہے؟" سینئر اینکر فواد احمد کا غیر معمولی صورتحال پر تبصرہ

02:51 PM, 12 Apr, 2026

اسلام آباد: سینیئر صحافی اور اینکر پرسن فواد احمد نے غیر معمولی صورتحال  پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ   پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی تعطل یا ناکامی کا شکار نہیں ہوئے، بلکہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل کا آغاز ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 1979 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت اس طرح ایک میز پر بیٹھی ہے۔ فواد احمد کے مطابق، جے ڈی ونس (J.D. Vance) اور دیگر اعلیٰ حکام کی 21 گھنٹے طویل بیٹھک اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین کسی بڑے نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ فوری طور پر 'اسلام آباد اکارڈ' کے نتائج کا  اعلان نہیں ہوا، لیکن میزائل حملوں اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے سائے میں اس سطح کی گفتگو خود میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
فواد احمد کے تجزیے کے مطابق اس صورتحال کو درج ذیل تین زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ سینئر اینکر فواد احمد کا کہنا تھا کہ  آئیڈیل صورتحال میں تو نتیجہ فوری آنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات "نارمل" نہیں ہیں۔ جب دو طاقتور فریق دہائیوں کے بعد میز پر بیٹھتے ہیں، تو 21 گھنٹے کی بات چیت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایجنڈا بہت وسیع ہے اور ہر نکتے پر باریک بینی سے بحث کی جا رہی ہے۔
 تجزیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کا ان مذاکرات کے لیے کلیدی کردار بین الاقوامی سیاست میں اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 1979 کے بعد پہلی بار قیادت کا اس طرح ملنا کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کی بنیاد ہے۔ان کاکہنا تھا کہ  امریکی وفد کی واپسی کو "مذاکرات کا خاتمہ" سمجھنا غلط ہوگا۔ ان کے بقول، ایسے حساس معاملات میں وفود تجاویز لے کر واپس جاتے ہیں تاکہ اپنی اعلیٰ ترین قیادت (Decision Makers) سے حتمی منظوری لے سکیں۔فواد احمد کے مطابق، یہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے بڑے فیصلے متوقع ہیں۔ ڈیل "ہوتے ہوتے رہ جانا" دراصل اس بات کی علامت ہے کہ فریقین اب حتمی شرائط کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔

مزیدخبریں