اسلام آباد : صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اقلیتی عبادت گاہوں کو غیرقانونی قبضوں سے واگزار کرانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف سے ایوانِ صدر میں ملاقات کے دوران کہی۔
ملاقات میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہبی رواداری کے فروغ، اور بین المذاہب ہم آہنگی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر نے وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے اقلیتی برادریوں کے لیے کیے گئے فلاحی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتیں پاکستان کا اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر سردار یوسف نے صدر کو آگاہ کیا کہ اقلیتی فلاحی فنڈ سے اب تک 2 ہزار 236 طلبہ کو 6 کروڑ روپے کے وظائف دیے جا چکے ہیں، جب کہ ایک ہزار 231 ضرورت مند افراد کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں 32 اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت و تزئین کے لیے 4 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام کے لیے مختلف مذاہب کے علما سے مشاورت جاری ہے۔
صدر زرداری نے زور دیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ تمام شہری بلاخوف و خطر اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔