تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی تعاون ضروری ہے ، صدر آصف علی زرداری

12:49 PM, 12 Feb, 2026

اسلام آباد : پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے تشدد پر مبنی انتہا پسندی کے روک تھام کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری نبھائے۔

صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر عمل پیرا ہے اور 2024 میں فعال روک تھام کی حکمتِ عملی کے تحت قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی وضع کی گئی ہے۔

آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان کی انتہا پسندی کے خلاف پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے، اور اسلام اور عالمی انسانی حقوق کے اعلامیہ میں برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کی تعلیمات دی گئی ہیں۔

صدر مملکت نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پائیدار امن صرف تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔

آصف علی زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف کوششیں کسی بھی مذہب یا ثقافت کو بدنام کیے بغیر کی جانی چاہئیں، اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا اس حوالے سے ضروری ہے۔

صدر نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے سدباب کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں۔

آخر میں، صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دنیا کو ایک ایسی جگہ بنانے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا جہاں نفرت کی جگہ امید ہو، تشدد کی جگہ امن ہو اور تقسیم کی جگہ مکالمہ ہو۔

مزیدخبریں