اسلام آباد : سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور ساتھ ہی ان کی صحت کے حوالے سے بھی اہم احکامات جاری کیے۔ عدالت نے عمران خان کو 16 فروری سے پہلے اپنی آنکھ کا معائنہ کروانے کا حکم دیا اور ان کے بچوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت بھی دے دی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جیل میں عمران خان کی حالت اور فراہم کردہ سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی جس میں عمران خان نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک اس معاملے کو زیر التوا رکھا جائے گا اور صحت کے معاملے پر مناسب فیصلہ دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اور حکومت کا موقف اس پر جاننا ضروری ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کو مناسب صحت کی سہولت فراہم کرے، اور اگر قیدی مطمئن نہیں ہیں تو ریاست کو مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت عدالتی ہدایات پر عمل کرے گی۔
عمران خان کی صحت سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ ان کی آنکھ کا معائنہ 16 فروری سے پہلے کیا جائے، اور ان کے بچوں سے بھی بات 16 فروری سے پہلے کرائی جائے۔ سلمان صفدر کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا کہ طبی معائنہ فیملی ممبر کی موجودگی میں نہیں کیا جائے گا، تاہم اگر ڈاکٹرز نے کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا تو انہیں فراہم کی جائیں گی۔