پاکستان کا 2034 تک 90 فیصد ماحول دوست توانائی کا ہدف، سولر بجلی 22 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی

02:53 PM, 12 Feb, 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک کے توانائی کے شعبے کے حوالے سے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان 2034 تک اپنی مجموعی بجلی کی ضرورت کا 90 فیصد ماحول دوست (Green Energy) ذرائع سے پیدا کر رہا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان میں سولر پینلز کے ذریعے بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں سولر پینلز سے 20 سے 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ سولر کی اس مجموعی پیداوار میں سے 8 سے 9 فیصد حصہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔
نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حالیہ بحث پر وضاحت دیتے ہوئے سردار اویس لغاری نے کہا     نیٹ میٹرنگ کا نظام ملک میں پہلی بار 2017 میں متعارف کرایا گیا تھا۔    انہوں نے واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا ریگولیٹر کا آئینی اختیار ہے، جس کا مقصد نظام میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
حکومت کے "گرین انرجی" وژن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم بتدریج درآمدی ایندھن (تیل اور کوئلہ) پر انحصار ختم کر رہے ہیں تاکہ عوام کو سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کی جا سکے۔ 2034 تک کا ہدف پاکستان کو توانائی کے میدان میں خود کفیل اور صاف ستھرا ملک بنانا ہے۔

مزیدخبریں