روس کا واٹس ایپ پر کریک ڈاؤن: 10 کروڑ صارفین کی رسائی بند کرنے کی کوشش، میٹا کے سنگین الزامات

03:34 PM, 12 Feb, 2026

ماسکو: امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’میٹا‘ کی ذیلی میسجنگ ایپ ’واٹس ایپ‘ نے روسی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں اس کی سروسز کو مکمل طور پر بلاک کرنے کے درپے ہے۔ دوسری جانب کریملن نے دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اگر میٹا روسی قوانین کی پاسداری کرے تو ہی اسے ملک میں کام کی اجازت مل سکتی ہے۔
واٹس ایپ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ہنگامی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روسی حکام صارفین کی رسائی محدود کر رہے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روس میں 10 کروڑ سے زائد افراد نجی اور محفوظ مواصلاتی سہولت سے محروم ہو جائیں گے۔
 رپورٹس کے مطابق سروسز متاثر ہونے کے باعث روسی صارفین کو میسجز بھیجنے کے لیے وی پی این (VPN) استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ اور دیگر غیر ملکی میسنجرز دہشت گردی اور فراڈ جیسے جرائم کی بیخ کنی میں تعاون نہیں کر رہے۔ روس کے مواصلاتی ادارے کے مطابق      واٹس ایپ دہشت گردی اور بھرتیوں جیسے مقدمات میں مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کر رہا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ واٹس ایپ کو ریاست کے خلاف سازشوں اور فراڈ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دسمبر سے واٹس ایپ پر پابندیوں کا دائرہ کار بڑھایا گیا ہے تاکہ صارفین کو مقامی ایپس کی طرف منتقل کیا جا سکے۔غیر ملکی ایپس کو بلاک کرنے کے ساتھ ساتھ روسی حکومت اپنی ریاستی سرپرستی میں تیار کردہ ایپ ’میکس‘ (MAX) کو تیزی سے فروغ دے رہی ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ’میکس‘ روسی شہریوں کی روزمرہ زندگی اور سرکاری خدمات تک رسائی کو آسان بناتی ہے اور یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔
کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیند اب ’میٹا‘ کے کورٹ میں ہے۔ اگر کمپنی روسی قوانین پر عمل کرتی ہے اور حکام کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو پابندیوں کے خاتمے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ روس پہلے ہی فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسی سروسز کو محدود یا بلاک کر چکا ہے۔

مزیدخبریں