دبئی/تہران: انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس ان ایران (ھرانا)" نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے دوران ہلاکتیں 500 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ تنظیم کے مطابق 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 1,600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ روئٹرز نے ان اعداد و شمار کی آزاد تصدیق نہیں کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، لیکن فسادیوں کو ملک میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں فسادات کروا رہے ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سازشوں سے دور رہیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور انقلاب پاسداران کے سابق کمانڈر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکی اڈے قانونی ہدف ہوں گے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے 28 دسمبر سے جاری ہیں، جن کا رخ بعدازاں حکومت کی طرف بھی گیا۔ ایرانی پولیس چیف احمد رضا رادان نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے فسادیوں سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیجز میں مظاہرین کی بڑی تعداد سڑکوں پر مارچ کرتی، نعرے لگاتی اور آگ جلانے کے مناظر دکھائے گئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق دو ہفتوں کے دوران احتجاج میں 114 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔