ریاض : سعودی عرب نے تقریباً پانچ سال بعد لبنان سے درآمدات پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس کی بعد ازاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے بھی توثیق کی۔
اجلاس میں لبنان کی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، جن میں ریاستی اداروں کی بحالی، داخلی استحکام اور سیکیورٹی صورتحال میں بہتری شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق لبنان کی جانب سے متعدد یقین دہانیوں کے بعد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے لبنانی وزیراعظم نواف سلام سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے اس فیصلے سے آگاہ کیا اور دوطرفہ تعلقات میں بہتری پر زور دیا۔
گفتگو کے دوران سعودی عرب نے لبنان کی خودمختاری، استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ لبنان کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین کسی ایسے گروہ یا سرگرمی کے لیے استعمال نہ ہو جو خطے کے کسی ملک کے خلاف ہو۔
بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ لبنان حکومت اصلاحات کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے ریاستی اداروں کو مزید مضبوط بنائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لبنانی صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام نے سعودی قیادت سے درآمدی پابندی ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات اور سعودی عرب کی مسلسل حمایت کا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے لبنان کی معیشت کو فائدہ ہوگا، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور مقامی صنعتوں کو نئی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ 2021 میں ایک متنازع بیان کے بعد سعودی عرب اور لبنان کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں سعودی عرب نے لبنانی درآمدات پر پابندی عائد کر دی تھی۔