وفاقی بجٹ 2026-27 عام آدمی کے لیے ریلیف یا ایک اور آزمائش؟

11:05 PM, 12 Jun, 2026

تحریر: عمران سعید

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عام آدمی کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس کی روزمرہ زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا مہنگائی کم ہوگی، روزگار بڑھے گا اور گھر کا بجٹ سنبھلے گا، یا پھر مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا؟


حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جو ایک مثبت قدم ہے، لیکن جب مہنگائی کی شرح 8 فیصد سے زائد رہنے کا ہدف بھی  رکھا گیا ہو تو یہ اضافہ محدود ریلیف محسوس ہوتا ہے۔ اگر اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو تنخواہوں میں اضافے کا فائدہ جلد ہی ختم ہو سکتا ہے۔


بجٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حکومت نے محصولات کا ہدف مزید بڑھا دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ کیا جائے گا۔  ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جب بھی ریونیو کا دباؤ بڑھتا ہے تو اس کا بوجھ بالآخر صارفین اور متوسط طبقے پر منتقل ہو جاتا ہے۔


بجٹ میں ترقیاتی اخراجات نسبتاً محدود رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں میں کمی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئی ملازمتوں کے مواقع اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار سست رہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کا مسئلہ بدستور ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔


حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بجٹ معیشت کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اگر مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں مہنگائی پر قابو پایا جاتا ہے اور سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو اس کے ثمرات مستقبل میں عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم عام آدمی فوری نتائج چاہتا ہے، اور اس کی نظر اس بات پر ہوگی کہ آنے والے مہینوں میں بازار میں آٹا، چینی، دالیں، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔


حقیقت یہ ہے کہ اس بجٹ میں عام آدمی کو کچھ ریلیف ضرور ملا ہے، مگر وہ اتنا نہیں کہ اس کی معاشی مشکلات مکمل طور پر کم ہو جائیں۔ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں اضافہ ملا، لیکن نجی شعبے کے کروڑوں ملازمین، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے براہ راست ریلیف محدود دکھائی دیتا ہے۔


یہ بجٹ شاید معیشت کو سنبھالنے کی کوشش ہو، لیکن عام شہری اسے اسی وقت کامیاب سمجھے گا جب اس کے گھر کے اخراجات کم ہوں گے، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور مہنگائی واقعی قابو میں آئے گی۔ بصورت دیگر یہ بجٹ بھی گزشتہ کئی بجٹوں کی طرح اعداد و شمار کی کامیابی اور عوامی مشکلات کے درمیان ایک فاصلہ برقرار رکھے گا۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے 

عمران سعیدمہر، کی عملی صحافت   ایک دہائی سے زائدعرصے پر محیط ہے۔وہ پاکستان میڈیا انڈسٹری کا جانا پہچانا نام ہیں۔ اور مختلف نیوز چینلز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔عمران مہر نہ صرف نیوز روم کی صحافت پر عبور رکھتے ہیں بلکہ وہ   بلاگر اور ولاگر بھی ہیں۔ جو    سوشل میڈیا  پلیٹ فارم سےمختلف سیاسی و سماجی موضوعات  پر اپنی تحریریں اور ولاگ قارئین اور ناظرین تک پہنچاتے ہیں۔

مزیدخبریں