مشرق وسطیٰ میں جنگ کا تیرہواں دن: شہری و فوجی نقصان اور عالمی تناؤ میں اضافہ

09:34 AM, 12 Mar, 2026

تہران : مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تیرہویں روز متعدد ممالک میں حملوں اور انسانی نقصانات کی خبریں سامنے آئیں۔ عراق کی سمندری حدود میں دو آئل ٹینکرز پر حملے ہوئے جبکہ متحدہ عرب امارات کے قریب ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔ عمان کے سلالہ پورٹ پر تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی، اور کویت میں ڈرون حملے سے دو افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیل اور لبنان میں بھی جاری حملوں میں شہری ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں، جہاں اب تک 634 افراد جاں بحق اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1300 سے زائد شہری ہلاک اور 12 ہزار زخمی ہوئے، جبکہ 10 ہزار سے زیادہ عمارات تباہ ہو چکی ہیں۔ دیگر متاثرہ ممالک میں اسرائیل میں 13 ہلاکتیں، عراق میں 15، کویت میں 6، متحدہ عرب امارات میں 6، سعودی عرب میں 2 اور عمان میں 1 ہلاکت رپورٹ ہوئی۔

سعودی وزارت دفاع نے اپنے مشرقی علاقے میں 18 ڈرونز کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، اور شیبہ آئل فیلڈ کی جانب جانے والے ایک ڈرون کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے جائز حقوق تسلیم کیے جائیں اور ہونے والے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں خطے میں امن کے عزم کا اعادہ کیا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے بحری و فضائی اہداف کو تقریباً تباہ کر دیا ہے اور جنگ جیت چکی ہے، لیکن وہ ایران سے نکلنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے آئی ای اے کے ذریعے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری کے بعد قیمتوں میں کمی کی توقع ظاہر کی۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی مقامات متاثر ہوئے، جن میں سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے فوجی اڈے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی جنگ بندی کی قرارداد امریکی ویٹو کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکی۔ تاہم، خلیجی ریاستوں کی جانب سے ایران کے حملوں کے خلاف ایک الگ قرارداد منظور کر لی گئی، جسے 13 ممالک نے حق میں ووٹ دیا، جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

مزیدخبریں