تہران :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات اور جنگی دھمکیوں کے جواب میں ایران نے بھی سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی قسم کی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے کیا گیا کوئی بھی غلط فیصلہ ہولناک نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
محمد باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ غلط نتائج ہی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ جتنی دیر کرے گا، امریکی ٹیکس دہندگان کو اتنی ہی زیادہ قیمت چکانا پڑے گی۔ ان کا اشارہ ایک نئی جنگ کے بھاری مالی اور جانی اخراجات کی طرف تھا۔
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ ایران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پیش کردہ 14 نکاتی تجویز ہی واحد راستہ ہے جس میں ایرانی عوام کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ امریکہ کے پاس ایرانی حقوق قبول کرنے کے سوا اب کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں۔ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی اب مزید کارگر ثابت نہیں ہوگی۔
ایرانی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن میں صدر ٹرمپ قومی سلامتی کی میٹنگ میں ایران کے خلاف "پراجیکٹ فریڈم" اور فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کی مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی مہم جوئی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس براہِ راست بیان بازی نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خطرات کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ اگر فریقین نے لچک نہ دکھائی تو آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا تنازع ایک عالمی معاشی اور عسکری بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
'جارحیت ہوئی تو بھرپور دفاع کریں گے'، امریکی ٹیکس دہندگان کو بھاری قیمت چکانا ہوگی؛ایران کا ٹرمپ کو جواب
09:55 AM, 12 May, 2026