کابل/اسلام آباد :بین الاقوامی جریدے 'یورو ایشیا ریویو' نے افغان طالبان رجیم اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان کا دہرا چہرہ خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے، جہاں ایک طرف عالمی سطح پر امن کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف 'فتنہ الخوارج' جیسے گروہوں کی سرپرستی جاری ہے۔
یورو ایشیا ریویو کی رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی مسلسل پشت پناہی نہ صرف افغانستان کے اندرونی حالات بلکہ ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے بھی ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔ رپورٹ میں درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
طالبان رجیم کی جانب سے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔ دہشت گردوں کے ساتھ یہ گٹھ جوڑ ہمسایہ ممالک کی سالمیت کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے کا امن داؤ پر لگ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، طالبان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عالمی وعدوں (دوحہ معاہدہ) کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ایک طرف عالمی تسلیمیت (Recognition) کے خواہشمند ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ ان عناصر کو پناہ دے رہے ہیں جو خطے میں خونریزی کے ذمہ دار ہیں۔ 'یورو ایشیا ریویو' کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ طالبان رجیم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے فتنہ الخوارج کی سرپرستی فوری طور پر بند نہ کی تو اس کے اثرات نہ صرف ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات پر پڑیں گے بلکہ افغانستان کی اپنی سلامتی اور بین الاقوامی ساکھ بھی مزید متاثر ہوگی۔
افغان طالبان کا دہرا چہرہ بے نقاب: فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آگئے
12:25 PM, 12 May, 2026