امفال/نئی دہلی :بھارتی ریاست منی پور میں مودی حکومت کی انتہا پسند اور متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف جاری علیحدگی پسند تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں علیحدگی پسندوں نے بھارتی فوج کے اہم ترین "آسام رائفلز" کے کیمپ پر قبضہ کر لیا ہے، جس نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کی نااہلی اور کمزوری کا پول کھول دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علیحدگی پسند تحریک کے مسلح ارکان بھارتی فوج کے قلعہ نما 'آسام رائفلز کیمپ' میں بلا خوف و خطر داخل ہو رہے ہیں۔
علیحدگی پسندوں نے نہ صرف کیمپ کا کنٹرول سنبھال لیا بلکہ بھارتی فوج کے جوانوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا, کیمپ کے اندر سے سامنے آنے والی ویڈیوز نے بھارتی دفاعی نظام کے بلند و بانگ دعوؤں کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی ہندو انتہا پسندانہ سوچ اور منی پور کے عوام کے ساتھ متعصبانہ سلوک نے اس علیحدگی پسند تحریک کو مہمیز دی ہے۔ ریاست میں کئی مہینوں سے جاری نسلی فسادات اور حکومتی سرپرستی میں ہونے والے مظالم کے بعد اب یہ تحریک مکمل طور پر مسلح مزاحمت میں بدل چکی ہے۔
بھارتی فوج، جو خود کو دنیا کی بڑی افواج میں شمار کرتی ہے، اپنے ہی ملک کی ایک ریاست میں اپنے دفاع میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔ آسام رائفلز جیسے تجربہ کار دستوں کے کیمپ پر قبضہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی فوج کا مقامی سطح پر انٹیلی جنس نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ فوجی جوانوں میں مقامی آبادی اور علیحدگی پسندوں کا سامنا کرنے کی ہمت ختم ہو رہی ہے۔
منی پور میں امن و امان کی صورتحال مودی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔ علیحدگی پسندوں کی جانب سے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ ریاست میں بھارتی یونین سے آزادی کی آوازیں اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد مودی حکومت کو عالمی سطح پر سخت سبکی کا سامنا ہے۔
بھارتی فوج اپنے دفاع میں بھی ناکام: منی پور میں علیحدگی پسندوں کا 'آسام رائفلز' کے کیمپ پر قبضہ
12:53 PM, 12 May, 2026