لکی مروت :خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں 'فتنہ الخوارج' کی جانب سے کیے گئے ایک ہولناک دھماکے میں 2 پولیس اہلکار اور 5 شہریوں سمیت 7 افراد شہید ہو گئے، جبکہ 22 افراد زخمی ہیں۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے میں زخمی ہونے والے 22 افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ شہید ہونے والوں میں پولیس اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں جو اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مگن تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم شہریوں کا خون بہانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنے کے لیے پوری قوم یکجان اور پرعزم ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور حملے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
لکی مروت میں فتنہ الخوارج کا بزدلانہ حملہ: 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد شہید، 22 زخمی
02:55 PM, 12 May, 2026