لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ سے بات چھپ چھپا کر نہیں عوام کے سامنے ہو گی۔ انہوں نے کہا اس کے لیے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی ایک ہی شرط ہے پہلے تحریکِ انصاف کی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ان کے قریبی ساتھیوں سے بات چیت کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے رابطے کیے گئے ہیں لیکن ابھی تک ان سے براہ راست کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مطابق مسلم لیگ ن کی سیاست بند گلی کی جانب نہیں جا رہی کیونکہ ان کے نزدیک بند گلی کی طرف وہ لوگ جا رہے ہیں جنھوں نے یہ مصنوعی چیز بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کا بیانیہ تو کراچی سے گلگت بلتستان تک گونج رہا ہے، ووٹ کو عزت دو۔
وفاقی وزیر شیخ رشید نے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پوری قیادت کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں اور اُن کا مسئلہ منتخب لوگ ہیں کیونکہ وہ اُن کو نکالنا چاہتی ہیں۔
شیخ رشید نے مزید کہا کہ مریم نواز کے بیان سے ان کی سیاسی پختگی کا اندازہ ہوتا ہے جب یہ نہ ملنے کا فیصلہ کر چکے ہیں تو رابطوں کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ ن لیگ ایک طرف کہتی ہے کہ کوئی ملکی سیاست میں مداخلت نہ کرے تو دوسری طرف خود بات چیت کی دعوت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہہ دیا کہ فوج منتخب حکومت کے ساتھ ہے اور 30 دسمبر سے 20 فروری کے درمیان ان کا یہ بیانیہ نہیں چلے گا اور گلگت الیکشن کا نتیجہ دیکھ کر ان کواندازہ ہو جائے گا
فواد چودھری نے کہا ہے کہ مجھے پی ڈی ایم کا بیانیہ سمجھ نہیں آتا۔وہ فوج سے بات کرنے کو تیار نہیں ، حکومت سے بات کرنا نہیں چاہتے جس سے پی ڈی ایم اے کے مؤقف سے پتا چلتا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور سیدھا سیدھا کہیں کیسز پر ریلیف دیں۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر مریم کہہ رہی ہیں خدا کیلئے کیسز سے جان چھڑائیں۔ لیگی رہنما ٹی وی پر باتیں کرتے ہیں باقی وقت پاؤں پڑے رہتے ہیں جبکہ شاہد خاقان، محمد زبیر جیسے لوگ سامنے آ کر پاؤں پڑتے ہیں۔