اسلام آباد میں ججز کی تقرری، عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار

06:23 PM, 12 Nov, 2025

اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی افسران کی تقرری اور تعیناتی کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔ جسٹس بابر ستار کے 73 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو کو ججز کی تقرری یا برطرفی کے اختیارات استعمال کرنے سے قبل عدلیہ سے مشاورت کرنا لازمی ہوگا۔

عدالتی افسران اپنی خدمات کے دوران آزاد، غیر جانبدار اور بیرونی دباؤ سے آزاد رہیں گے۔ عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کی مشاورت کے بغیر کی جانے والی تقرری غیر قانونی ہوگی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اسلام آباد میں صوبائی عدلیہ سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے افسران عدلیہ کی خودمختاری متاثر کرتے ہیں، اور حکومت کو ہدایت دی گئی کہ عدالتی افسران کی تقرری، مدت ملازمت اور برطرفی کے قوانین میں ضروری ترامیم کرے۔ وزارتِ قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کو فیصلے کی نقول بھجوانے کا حکم بھی دیا گیا۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 9 اور 25 کی روشنی میں شہریوں کے حق انصاف کو بنیادی اور ناقابل تنسیخ قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی قانون یا انتظامی عمل جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے، آئین کے خلاف اور باطل ہوگا۔

مزیدخبریں