اسلام آباد : وفاق نے سینیٹ سے منظور شدہ 27 ویں آئینی ترمیم 2025 میں مزید ترامیم کے لیے بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں ترامیم کی تفصیل پیش کی، جس میں کچھ شقوں کے اخراج اور نئی شقوں کے اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔
ترمیمی بل میں شق 2 کے متبادل کے طور پر آئین میں وفاقی آئینی عدالت کے الفاظ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ نئی شق A2 بھی شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وزیر قانون نے شق 4 اور شق 19 کے حذف، اور شق 51 و شق 55 کے نکالنے کی تجاویز پیش کیں، اور شق 56 میں نئی ذیلی شق (ab) شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
ترمیم کے تحت چیف جسٹس پاکستان کی نئی تعریف بھی تجویز کی گئی ہے، جس کے مطابق چیف جسٹس وہ جج ہوگا جو وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز میں سے سینئر ہو۔
آرٹیکل 176 میں لفظ “انصاف” کے بعد “سپریم کورٹ” کے الفاظ شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ موجودہ چیف جسٹس اپنی مدت ملازمت برقرار رکھ سکیں، جبکہ آرٹیکل 10 میں وضاحت کے طور پر “سپریم کورٹ آف” کے الفاظ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ یہ ترامیم عدالتی ڈھانچے کی وضاحت اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ کار کے تعین کے لیے ضروری ہیں۔