قبائلی عوام کا افغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان

10:16 AM, 12 Oct, 2025

اسلام آباد :  پاک افغان سرحدی کشیدگی میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے: قبائلی عمائدین و عوام نے اعلان کیا ہے کہ افغان سرپرستی یافتہ دہشت گردوں اور حملہ آوروں کے خلاف وہ خود بھی ہتھیار اٹھائیں گے اور پاک فوج کے شانہ بشانہ وطن کا دفاع کریں گے۔

قبائلی رہنماؤں کی جاری کردہ آڈیو بیان میں کہا گیا کہ "دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ہم پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ وطن کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے پوری قوت سے نبھائیں گے۔" قبائلیوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی انہوں نے دہشت گردوں کو سبق سکھایا اور آئندہ بھی اسی طرح کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر افغان مہمان بن کر آئیں گے تو سر پر بٹھائیں گے، مگر دشمن اور حملہ آور بن کر آئیں گے تو جواب گولی سے دیا جائے گا۔"

حکام کے مطابق تازہ جھڑپوں میں افغان فورسز نے بارڈر پر انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال اور بارام چاہ کے علاقوں میں بلا اشتعال فائرنگ کی۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے جوابی کارروائی کی اور درجنوں افغان فوجی اور خوارج ہلاک ہوئے — جبکہ رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ طالبان متعدد لاشیں اور پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

خطے میں کشیدگی کی بڑھتی ہوئی لہر کے پیشِ نظر سعودی عرب، قطر اور ایران نے دونوں حریفوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتکاری کے ذریعے معاملات حل کریں۔ سعودی عرب نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بات چیت کو ترجیح دیں، جب کہ قطر نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دونوں ممالک سے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے۔

یہ صورتحال اُس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و سکیورٹی شعبے میں اسٹریٹجک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا—یہ معاہدہ موجودہ سیاسی و عسکری حساسیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ قبائلی اعلان اور سرحدی جھڑپیں علاقے میں صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتی ہیں۔ ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ اگر معاملے کو سفارتی سطح پر قابو نہ کیا گیا تو مقامی سطح کی اشتعال انگیزی بڑے پیمانے پر تبادلوں اور انسانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم قبائلی عمائدین نے واضح کیا کہ ان کا ہدف صرف ملک کی حفاظت ہے اور وہ ملکی افواج کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ ان کے الزامات کے مطابق پاک افغان بارڈر پار خفیہ کارروائیاں اور خوارج کی دراندازی سرحدی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ 

مزیدخبریں