بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی مصنوعات پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد چین نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چین کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی یکم نومبر سے تمام چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے اور اہم امریکی سافٹ ویئر کی برآمدات پر سخت پابندیاں لگانے کی دھمکی سے چین کے مفادات کو بڑا نقصان پہنچے گا۔
چین نے واشنگٹن پر دوہرا معیار اپنانے اور تجارتی مذاکرات کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ وزارتِ تجارت نے کہا کہ امریکہ کی یہ پالیساں چین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ چین نے واضح طور پر کہا کہ وہ لڑائی سے گریز کرتا ہے لیکن لڑنے سے بھی نہیں ڈرتا، اور ضرورت پڑنے پر سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے حالیہ میڈرڈ تجارتی مذاکرات کے بعد چین کے خلاف پابندیاں بڑھا دی ہیں اور کئی چینی کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جس سے تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ چین نے اس بات پر زور دیا کہ ہر موقع پر بلند ٹیرف کی دھمکیاں دینا چین کے ساتھ تعلقات کے لیے صحیح طریقہ نہیں ہے۔
چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی غلط پالیسیوں کو درست کرے تاکہ دونوں ممالک کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات صحت مند اور پائیدار بنیں۔ اس کے علاوہ، چین نے جواباً امریکی بحری جہازوں پر خصوصی بندرگاہی فیس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جسے واشنگٹن کی نئی پابندیوں کے ردعمل میں دفاعی اقدام قرار دیا گیا ہے۔
چین نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اپنی موجودہ پالیسیوں کو جاری رکھتا ہے تو چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھائے گا۔