سلامتی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر حملے کی مذمت ، امریکہ سمیت 15 رکن ممالک کے مذمتی بیان جاری

09:21 AM, 12 Sep, 2025

نیو یارک  :  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے، تاہم بیان میں اسرائیل کا نام لیے بغیر کارروائی کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ مذمتی بیان پاکستان کے مطالبے پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔

سلامتی کونسل کے اس مشترکہ بیان کو برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا، جسے امریکہ سمیت تمام 15 رکن ممالک نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ بیان میں دوحہ پر حملے کو عالمی سفارتکاری اور امن کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کو اولین ترجیح قرار دیا گیا۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی امن کے خلاف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے صرف قطر کی خودمختاری کو پامال نہیں کیا بلکہ عالمی سطح پر سفارتی توازن کو بھی برباد کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوسری جانب قطر کے وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اسرائیلی حملے کو سفارتکاری کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ پر حملے کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو یقین دہانی کرائی کہ قطر اپنا ثالثی کردار بدستور ادا کرتا رہے گا اور خونریزی روکنے کے لیے ہر ممکن انسانی اور سفارتی کوشش جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل کے روز دوحہ میں مبینہ طور پر حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا۔ حملے میں حماس رہنما خلیل الحیا کے بیٹے اور دفتر کے ڈائریکٹر سمیت 6 افراد شہید ہوئے، تاہم حماس کی اعلیٰ قیادت محفوظ رہی۔

امریکی ردعمل میں اس حملے کو "افسوسناک" قرار دیا گیا، تاہم امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے حماس کا پیچھا کرنا ایک "جائز ہدف" قرار دیتے ہوئے حماس سے فوری طور پر ہتھیار ڈالنے اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حملے نہ تو امریکی مفاد میں ہیں، نہ ہی اسرائیل کے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، سلامتی کونسل کے اس غیر معمولی متفقہ بیان نے اسرائیلی اقدامات کے خلاف ایک واضح سفارتی پیغام دیا ہے، جس میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت کا حامل رہا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں نئی سفارتی صف بندی کا اشارہ بھی ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں